بلاک چین ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو نہ صرف ہر قسم کی کرپٹو کرنسی کی بنیاد ہے بلکہ این ایف ٹیز بھی اسی کے تحت چلائی جاتی ہیں کرپٹو کرنسی کی ہر ٹرانزیکشن بلاک چین پر رضاکاروں کے ایک نیٹ ورک کی مدد سے ریکارڈ کی جاتی ہے اور یہی رضاکار کمپیوٹر پروگراموں کے تحت اس کرنسی کی خرید و فروخت کی تصدیق بھی کرتے ہیں۔
مختصر مدت کے کرپٹو سرمایہ کاروں کے لیے دیگر خطرات بھی ہیں۔ اس کی قیمتیں تیزی سے تبدیل ہوتی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ جہاں بہت سے لوگوں نے صحیح وقت پر خرید کر تیزی سے پیسہ کمایا ہے، وہیں بہت سے دوسرے لوگوں نے کرپٹو کریش سے ٹھیک پہلے ایسا کر کے پیسے کھو دیے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجس طریقے سے بٹ کوائن کو بنایا گیا ہے اس کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ دو کروڑ دس لاکھ کوائن ہی تیار کیے جا سکتے ہیںمضمون کی تفصیل
،تصویر کا کیپشنکرپٹو کرنسی کی ہر ٹرانزیکشن بلاک چین پر رضاکاروں کے ایک نیٹ ورک کی مدد سے ریکارڈ کی جاتی ہے
یہ کمپیوٹرز جن میں سے اکثر بٹ کوائن بنانے والی بڑی کمپنیوں کی ملکیت ہوتے ہیں، ہائی ٹیک اکاؤنٹنٹس کی طرح کام کرتے ہیں جو بٹ کوائنز کے لین دین کا ریکارڈ جانچتے اور محفوظ کرتے ہیں۔ اس کام کے عوض کمپیوٹرز کو خود بخود بٹ کوائنز ہی ملتے ہیں۔
اگر آپ یہ جاننے چاہتے ہیں کہ حالیہ ہفتوں میں بٹ کوائن کی قدر میں اضافے کی وجوہات کیا ہیں تو یہاں کلک کیجیے۔
Transition from a spectator to the strategist by recognizing emerging designs just before they go mainstream.
بٹ کوائن کو قانونی کرنسی قرار دے دیا جائے تو آپ کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟
سپورٹرز کرپٹو کرنسیوں جیسے کہ بٹ کوائن کو مستقبل کی کرنسی کے طور پر دیکھتے ہیں اور انہیں ابھی خریدنےکے خواہش مند ہیں اس سے پہلے کہ وہ زیادہ قیمتی ہو جائیں۔
یہ بطور مثال بٹ کوائن کی ٹرانزیکشن کا طریقہ کار مختصراً ذکر کیا گیا۔ اس میں ایک احتمال باقی ہے وہ یہ کہ کیا حسن واقعتا اس بٹ کوائن کا مالک تھا بھی یا اس نے جعل سازی کے تحت یہ کوائن فرضی طور پر بنا رکھا تھا ؟ عام زندگی میں اس سوال کا جواب کوئی ادارہ یا بینک وغیرہ دیتے ہیں جس کے تحت وہ یہ ذمے داری لیتے ہیں کہ معاملہ ہر قسم کی جعل سازی سے پاک ہے لیکن بٹ کوائن چونکہ ایک ڈی سینٹر لائیز ڈ ٹیکنالوجی پر قائم ہوتا ہے تو اس میں کوئی ادارہ یا بینک یہ کام نہیں کر سکتا۔ اس احتمال کو دور کرنے کے لیے تصدیق کا عمل بنایا گیا جس میں یہ احتمال دور کیا جاتا ہے کہ واقعتا حسن بلوک چین اس بٹ کوائن کا مالک تھا اور وہ اس میں کوئی دھوکہ دہی کا معاملہ نہیں کر رہا۔ ہم نے ذکر کیا کہ مختلف کرنسیوں میں یہ تصدیق کا عمل مختلف طریقوں سے ہوتا ہے۔ کچھ کرنسیوں میں سٹیکنگ“ کا عمل ہوتا ہے جبکہ بٹ کوائن میں یہ تصدیق کا عمل ” مائیننگ کے ذریعے ہوتا ہے۔
ٹرمپ کے پاس ایران کو جوہری حقوق سے محروم کرنے کا کوئی جواز نہیں: ایرانی صدر
فروری کے وسط میں ایسے ای ٹی ایف شروع کرنے کے لیے درخواست دینے والی سرمایہ کار کمپنیوں نے ہزاروں کی تعداد میں بٹ کوائنز خریدنا شروع کر دیے، کیونکہ ہیج فنڈز سے لے کر سٹاک مارکیٹ کے تاجروں تک ہر کسی نے بٹ میم کوائن کوائن کی قیمت پر شرط لگانے کے لیے ای ٹی ایف خریدے جبکہ خود ان کے پاس ایک بھی ایسا کوائن نہیں تھا۔
اےایمان والو! یہ شراب اور یہ جوا اور یہ آستانے اور پانسے سب گندے شیطانی کام ہیں لہذا ان سے بچتے رہوتا کہ تم فلاح پاسکو۔
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: کیا ماضی میں ایسے اقدامات کسی ملک کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر سکے ہیں؟