پاکستان کا پہلے سرکاری اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو کا اعلان
کرپٹو کرنسی کواس کے جاننے والے حضرات کے درمیان مقبولیت عامہ حاصل ہے
’بہادری اور شجاعت‘ کا تمغہ مگر جنگی جرائم کا بھی الزام: افغان جنگ میں شریک آسٹریلوی فوجی کی کہانی
جہلم میں محمد علی مرزا کی ’اکیڈمی پر فائرنگ:‘ ایک مبینہ حملہ آور ہلاک، پولیس اہلکار زخمی
یہ کمپیوٹرز جن میں سے اکثر بٹ کوائن بنانے والی بڑی کمپنیوں کی ملکیت ہوتے ہیں، ہائی ٹیک اکاؤنٹنٹس کی طرح کام کرتے ہیں جو بٹ کوائنز کے لین دین کا ریکارڈ جانچتے اور محفوظ کرتے ہیں۔ اس کام کے عوض کمپیوٹرز کو خود بخود بٹ کوائنز ہی ملتے ہیں۔
یہ تعداد اس وقت زیادہ ہو گی جب آپ ایکسچینجز کے پاس رکھے ہوئے سکوں پر غور کریں گے، کیونکہ ان میں سے زیادہ تر عام لوگوں کی ملکیت ہیں۔
بلاک چین ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو نہ صرف ہر قسم کی کرپٹو کرنسی کی بنیاد ہے بلکہ این ایف ٹیز بھی اسی کے تحت چلائی جاتی ہیں۔
سرمایہ کاروں کو ورایتی کرنسیوں کو ڈیجیٹل کرنسیوں میں تبدیل کرنے کے لیے اکثر فیس بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔
ایک زمانہ تھا جب کمپیوٹر پر اردو لکھنے کے لیے آپ کو کافی تردد کرنا پڑتا تھا۔ آج کل کمپیوٹر پر اردو لکھنا بہت آسان ہو چکا ہے۔ میں آپ کو ایک ایسا ہی آسان طریقہ بتانے جا رہا ہوں
بیچنے والے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جس چیز کو وہ بیچ رہا ہے وہ اس کی ملکیت و قبضے میں ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو شریعت نے اس کو وہ چیز بیچنے سے منع فرمایا ہے
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کی کان کریپٹو کرنسی کنی ان چند منصوبوں میں سے ایک ہے جو ایک آئینی بادشاہت بھوٹان کو اپنی معیشت کو بڑھانے کی اجازت دیتی ہے جبکہ ایک ملک کی حیثیت سے اپنی اقدار کے میکا کوائن ساتھ صف بندی کرتی ہے۔
ان میں سے ایک والٹ کا مالک ہونا آپ کو ارب پتی بنا دے گا۔ ان میں سے کچھ ایسے لوگوں یا تنظیموں کے والٹ ہو سکتے ہیں جو اس گراف میں کہیں اور نظر آتے ہیں لیکن ہم کبھی نہیں جان پائیں گے، جب تک کہ کوئی محقق ان کا ناتا جوڑ پائے یا پھر وہ خود کو ظاہر کر دیں۔
دوسری حکومتیں ، جیسے وسطی افریقی جمہوریہ اور فرانس ، بٹ کوائن کو قانونی ٹینڈر کے طور پر تسلیم کرنے لگی ہیں۔
دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک نے بٹ کوائن کیوں اپنایا؟